عنبرین صلاح الدین کا شعری سفر نوے کی دہائی سے شروع ہوتا ہے ۔ ادبی، علمی اور تحقیقی منظر نامے پر ان کا نام نمایاں، اہم اور معتبر ہے۔ وہ غزل اور نظم دونوں اصناف میں یکساں عمدگی کے ساتھ لکھتی ہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ نظم گوئی کی طرف ان کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے ۔ بے حیا عورتیں، پسِ ساخت، تری آواز کا مرہم، کہانی نہیں تھی، محرم، انتساب، اَنمٹ ریکھا، دریچہ، اگر رستے نہیں ہوتے، ایک اور ادھوری نظم، وغیرہ ان کی چند اہم نظموں میں سے ہیں ۔ امیجری، کیفیت اور معنی ان کے بنیادی عناصرِ شعری قرار دیے جا سکتے ہیں اور ان اجزا کی کارفرمائی ان کے معنوی جمالیاتی ارتفاع میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ وہ 6 مئی 1978ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ پنجاب یونیورسٹی سے فلسفہ اور تاریخ میں ماسٹر کیا ۔ صنفی مطالعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی۔ صنفی مطالعات میں یہ پہلی پاکستانی پی ایچ ڈی ہے ۔ سرِ دشتِ گماں (2004ء) اور صدیوں جیسے پل(2014ء) کے نام سے ان کے دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ فیمینزم اِن ماڈرن اردو پوئٹیس (2005ء) کے نام سے ریسرچ کی کتاب چھپ چکی ہے۔ آج کل پنجاب یونیورسٹی (ڈیپارٹمنٹ آف جینڈر سٹڈیز) میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔